بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے سٹیل انڈسٹری بقاء کے مسائل سے دوچار، لاکھوں ملازمتیں خطرے میں

596

اسلام آباد: پاکستان میں سٹیل کے بڑے پروڈیوسروں نے متنبہ کیا ہے کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ سٹیل کی صنعت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، لاگت میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے یہ صنعت بقا کے مسائل سے دوچار ہو چکی ہے اور لاکھوں ملازمتیں خطرے میں ہیں۔

سٹیل انڈسٹری کی نمائندگی کرتے ہوے سیکرٹری جنرل واجد بخاری نے اِن پٹ کی لاگت میں بڑے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جسے وہ اس شعبے کے ساتھ دھوکے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے نہ صرف پیداواری لاگت بڑھے گی بلکہ یہ صنعت کو بند ہونے کے دہانے پر دھکیل دے گا جس سے لاکھوں افراد کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سٹیل انڈسٹری کو پہلے ہی مہنگائی، بڑھتے ہوئے مالیاتی چارجز اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مسائل کا سامنا تھا۔ بڑے پیمانے پر کرنسی کی قدر میں کمی نے اس صنعت کے بحران کو مزید گہرا کر دیا اور اب حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نے جلتی پر گویا تیل ڈال دیا ہے۔ یہ ناقابلِ برداشت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 78 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے اور فی یونٹ قیمت جون 2022ء میں 28 روپے تھی جو جولائی 2023 میں تقریباً 50 روپے پر پہنچ چکی ہے۔ ٹیرف میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ کا حالیہ اضافہ سٹیل کی صنعت کو بری طرح متاثر کرے گا جو بجلی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

بجلی کے بڑے صارف کے طور پر سٹیل کی صنعت تیزی سے بڑھتی ہوئی بجلی کی لاگت کا بوجھ برداشت کرے گی جو اس انڈسٹری کے مجموعی پیداواری اخراجات کا تقریباً 50 فیصد ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس سے سٹیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں ناگزیر اضافہ متوقع ہے۔

واجد بخاری نے خبردار کیا کہ بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے سٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافی 8 سے 10 ہزار روپے فی ٹن اضافے کی توقع ہے جبکہ مالیاتی چارجز، نقل و حمل کے اخراجات، اور کرنسی کی قدر میں کمی کے اثرات مجموعی طور پر سٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں 15 ہزار سے 18 ہزار روپے فی ٹن تک اضافہ کر سکتے ہیں۔

سٹیل سیکٹر نے ایک تسویسناک رجحان پر روشنی ڈالی ہے، جہاں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ پاکستان میں انرجی ٹیرف اب دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، جو ملکی سٹیل کی صنعت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ تقابلی طور پر پاکستان میں بجلی کی قیمتیں ویتنام سے تقریباً 55 فیصد، بنگلہ دیش سے 45 فیصد، چین سے 41 فیصد، یوکرین سے 29 فیصد اور بھارت سے 21 فیصد زیادہ ہیں۔

واجد بخاری نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے مہنگے ٹیرف سٹیل کی صنعت کو غیر مسابقتی بنا رہے ہیں اور اس کی ترقی کی صلاحیت کو روک رہے ہیں، توانائی کے اخراجات میں تضاد بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور سٹیل سیکٹر کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ان چیلنجز کی روشنی میں بڑے سٹیل پروڈیوسرز نے حکومت سے ان خدشات کو دور کرنے اور اس کا فوری حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جس سے ملکی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here