فاسٹ کیبلز آئی پی او میں کیوں جا رہی ہے؟

129

لاہور: بجلی کی مصنوعات بنانے والی معروف پاکستانی کمپنی فاسٹ کیبلز ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے 3 ارب روپے کا سرمایہ جمع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں آئی پی او میں جا رہی ہے جب سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کی وجہ سے بیشتر کمپنیاں سرمایہ اکٹھا کرنے کی کوشش میں ہیں۔

فاسٹ کیبلز 1985ء میں قائم ہوئی، جلد ہی گھریلو اور تجارتی صارفین کو ہدف بنا کر بجلی کی تاروں کی مارکیٹ کی نمایاں کمپنی بن گئی۔ پاکستان میں تاحال ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو بجلی کا سامان بالخصوص تاریں بنا کر براہ راست صارفین کو فروخت کرتی ہوں کیونکہ زیادہ تر صارفین ہول سیلرز اور کنٹریکٹرز کے ہاتھوں مہنگے داموں غیرمعیاری تاریں خرید کر لٹتے ہیں۔ تاہم فاسٹ کیبلز نے مارکیٹ میں اپنا نام پیدا کیا اور جلد ہی اسے تیل، گیس اور ٹیلی کام کے شعبوں سے بڑے گاہک مل گئے۔

دسمبر 2008ء میں یہ کمپنی پبلک ہوئی اور آخر کار اَب سٹاک ایکسچینج کا حصہ بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے دو مینوفیکچرنگ پلانٹس ہیں جہاں بجلی کی تاریں، کنڈکٹرز اور کیبلز تیار کی جاتی ہیں۔ اس کا مرکزی پلانٹ لاہور میں ہے۔

آئی پی او اَب ہی کیوں؟

اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں فاسٹ کیبلز کے کاروباری ماڈل کو سمجھنا ہو گا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار کم وولٹیج کیبلز، میڈیم وولٹیج کیبلز اور کنڈکٹرز بنانا ہے۔ اس کی تقریباً 70 فیصد آمدنی کم وولٹیج کیبلز سے آتی ہے۔ مالی سال 2021ء اور 2022ء میں اس کی مصنوعات کی فروخت میں 70 فیصد اضافہ ہوا اور آمدن 14 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ارب روپے تک جا پہنچی۔ کمپنی کے پیداواری اخراجات میں 90 فیصد خرچ خام مال کا ہے اور بنیادی خام مال کاپر اور ایلومینم ہے جو غیرملکی سپلائرز سے درآمد کیا جاتا ہے۔

آئی پی او کا تکنیکی پہلو

فاسٹ کیبلز 83.5 ملین شئیرز فروخت کرنے پر غور کر رہی ہے جو بُک بلڈنگ کے طریقہ کار کے ذریعے فروخت کیلئے پیش کیے جائیں گے، اس کیلئے کم از کم قیمت 36 روپے فی شئیر جبکہ زیادہ سے زیادہ 50.4 فی شیئر رکھی گئی ہے۔

پچھہتر فیصد شئیرز بولی دہندگان کو جبکہ 25 فیصد ریٹیل انویسٹرز کو بیچے جائیں گے۔ عارف حبیب بروکرز اس آئی پی او کے انتظامی امور سنبھالیں گے۔ تاہم کمپنی کی جانب سے بُک بلڈنگ کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔

فاسٹ کیبلز کے مالکان کون ہیں؟

اس کمپنی کے سی ای او میاں غلام مرتضیٰ شوکت 52 فیصد شئیرز کے مالک ہیں جن کا حصہ آئی پی او کے بعد 39 فیصد رہ جائے گا۔ روبینہ شوکت نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور 20.5 فیصد شئیرز کی مالک ہیں، ان کا حصہ آئی پی او کے بعد 15.3 فیصد رہ جائے گا۔ کمال محمود امجد میاں فاسٹ کیبلز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور مینجنگ ڈائریکٹر ہیں اور ساڑھے 4 فیصد شئیرز کے مالک ہیں۔ ان کا حصہ بعد از آئی پی او 3.4 فیصد رہ جائے گا۔ ماہ لکا شوکت نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور 0.003 فیصد کی حصہ دار ہیں اور ان کی شئیر ہولڈنگ آئی پی او کے بعد 0.002 فیصد رہ جائے گی۔

آئی پی او کا مقصد کیا ہے؟

دراصل فاسٹ کیبلز نئی اراضی کے حصول، جدید ترین عمارت کی تعمیر، نئے پلانٹ اور مشینری کی تنصیب اور قرض کی ادائیگی کیلئے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے آئی پی او کر رہی ہے۔ اگر یہ 36 روپے فی شئیر سے زائد حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو اس آمدن کو ورکنگ کیپٹل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے استعمال کرے گی۔

مالیاتی کارکردگی

کمپنی کی تازہ ترین مالیاتی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اس کی آمدن میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ 2018ء میں 5.4 ارب روپے سے بڑھ کر 2022ء میں 23 ارب روپے تک جا پہنچی جبکہ مالی سال 2022-23ء کی اَب تک کی غیر آڈٹ شدہ مالیاتی کارکردگی کے مطابق اس کی آمدن 9 ماہ میں ہی اس سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 18.5 فیصد کے مجموعی مارجن اور 13.5 فیصد کے آپریٹنگ مارجن کی بنیاد پر کمپنی نے 9 ماہ میں 1.3 ارب روپے منافع کما لیا ہے۔ س

سال 2022ء کیلئے فاسٹ کیبلز کی فی شئیر آمدن 4.1 روپے تھی جبکہ سال 2023ء کے 9 ماہ کے لیے فی شئیر آمدن 5.1 روپے رہی۔

حریف کمپنی

فاسٹ کیبلز لمیٹڈ کی مدمقابل پاکستان کیبلز ہے جو پہلے ہی سٹاک ایکسچینج کا حصہ ہے۔ پاکستان کیبلز کی مالی سال 2021-22 کی آمدنی 21 ارب روپے تھی جبکہ فاسٹ کیبلز نے 23 ارب روپے کمائے۔ پچھلے سال پاکستان کیبلز کا منافع 82 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ فاسٹ کیبلز کا ایک ارب روپے تھا، تاہم پاکستان کیبلز  کی فئی شئیر آمدن تقریباََ 23 روپے رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here