کیا کارپوریٹ فارمنگ دیہات میں غربت کو ختم کر سکتی ہے؟

1060
corporate farming

لاہور: شہروں کے تیز تر پھیلائو کے باوجود پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور مجموعی افرادی قوت کا ایک تہائی حصہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے دیہی علاقے شہروں کے مقابلے بہت زیادہ غربت زدہ اور پسماندہ ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کے پیدا کردہ مسائل جیساکہ پانی کی کمی اور بار بار کے سیلابوں نے صورتحال مزید خراب کر دی ہیں۔

اگرچہ مختلف اضلاع میں زمین کی ملکیت کا طریقہ کار اور پیمانے مختلف ہیں لیکن دیہی علاقوں کے مکینوں کی محرومیوں کی ایک بڑی وجہ زمین کی ملکیت کا بہت زیادہ پیچیدہ طریقہ کار بھی ہے۔ تقسیم در تقسیم کی وجہ سے ایسے زمینداروں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو وسیع قابل کاشت رقبے کے مالک ہیں۔ تقریباََ نصف دیہی آبادی بے زمین ہے۔ یہ ایسے کاشتکار ہیں جو ٹھیکے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ یہ لوگ اپنے علاقے کے بڑے یا درمیانے درجے کے کسانوں کے ساتھ حصہ دار بن کر یا زرعی مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ اُن کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔

زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سرمایہ دارانہ حکمت عملیوں کا استعمال نام نہاد ‘سبز انقلاب’ کے دنوں سے کیا جا سکتا ہے جس نے پیداوار میں تو اضافہ کیا لیکن ایسا ماحول کے لیے نقصان دہ اور مہنگی کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر انحصار کرتے ہوئے کیا گیا۔ زرعی مشینیری کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کو نقل مکانی کرکے متبادل روزگار ڈھونڈنا پڑا۔ اس کے بعد مارکیٹ پر منحصر زرعی پالیسیوں کا ایک دور چلا جنہیں ورلڈ بینک جیسے اداروں کی حمایت حاصل رہی، جنہوں نے بے زمین غریبوں کی حالت زار پر کوئی توجہ نہ دی۔

اَب کارپوریٹ فارمنگ فروغ پا رہی ہے لیکن یہ بھی دیہاتوں میں غربت کو مؤثر طور پر ختم کرنے کیلئے ایک مشکل حکمت عملی ہے۔ دراصل ورلڈ بینک نے 2003ء اور پھر 2007ء میں غربت میں کمی کی اپنی حکمت عملی کے طور پر اِس طریقہ کار کی حمایت کی کہ ایسے ’ترقی پسند‘ کسانوں کو بینکوں سے مالیاتی وسائل فراہم کیے جائیں جو بڑے رقبے خرید سکتے ہیں یا لیز پر لے سکتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں کچھ بڑے زرعی فارم جو کارپوریٹ طرز پر کام کر رہے ہیں وہ جدید طریقوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہیں۔ یہ ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر لیتے ہیں۔ کام کرنے کیلئے جدید زرعی مشینری کے علاوہ ماہرینِ زراعت بلکہ مارکیٹرز، مینجرز اور اکاؤنٹنٹس سمیت دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ آبپاشی کیلئے ڈرپ اریگیشن جیسا جدید طریقہ اپنا کر پہلے سے ذخیرہ شدہ پانی کو استعمال میں لایا جاتا ہے اور نقد آور فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ ایسے فارم متاثرکن منافع کمانے کے ساتھ حکومت کو باقاعدہ ٹیکس دیتے ہیں اور واقعی زرعی پیداوار میں اضافے کا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔

تاہم یہ سوچنا کہ کارپوریٹ فارمز کو مؤثر طور پر چلانے سے دیہی غربت خود بخود ختم ہو سکتی ہے، محض ایک خواہش کے سوا کچھ نہیں۔ زیادہ تر کارپورٹ فارمز میں فصلوں کی چنائی یا کٹائی کیلئے خواتین یا پھر وقتی طور پر مرد مزدوروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جنہیں ظاہر ہے ایک معمولی سی اجرت کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بعض صورتوں میں وہ بھی سرکاری طور پر مقرر شدہ کم از کم اجرت سے کم ہی ہوتی ہے۔ چونکہ کارپوریٹ فارمز کسانوں سے زمینیں ٹھیکے پر لے کر بنائے جاتے ہیں، اس لیے زیادہ تر حصہ پر کھیتی کرنے والوں یا چھوٹے کسانوں کو زمین ٹھیکے پر دینے کی صورت میں متبادل روزگار کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ یعنی کارپوریٹ فارم چھوٹے کسانوں اور زرعی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کو بے دخل کر دیتے ہیں۔

بہرحال ہر پاکستانی حکومت ہی خلیجی اور چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ حکومت کا مطمع نظر یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے پیسے سے محدود رقبے پر کم پانی آبی وسائل کو کام میں لا کر برآمدی فصلیں اگائی جائیں لیکن دوسری جانب ملک خود پانی کی شدید کمی اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہے۔

ابھی حال ہی میں فوج نے بھی کارپوریٹ فارمنگ شروع کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ اسے پنجاب کے تین اضلاع میں 45 ہزار ایکڑ اراضی 20 سال کیلئے ٹھیکے پر دی گئی ہے۔ درحقیقت فوج کا مویشیوں اور گھوڑوں کی افزائش نسل کیلئے فارمز بنانا اور فوجی اہلکاروں کو زرعی زمینیں دینا نو آبادیاتی دور کی باقیات ہیں۔ فوج کے ذریعے چلائے جانے والے کارپوریٹ فارمز دیہی علاقوں میں غربت سے نمٹنے میں مددگار ہو سکیں گے اس کی موہوم سی امید تو رکھی جا سکتی ہے لیکن اس کا امکان محدود ہے۔

اصل تحریر ایکسپریس ٹربیون میں شائع ہوئی:

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here