اضافی ٹیکسوں سے متاثر، سگریٹ ساز فلپ مورس کی سیلز میں 11 فیصد کمی

361

لاہور: سگریٹ پر اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے پریشان تمباکو کی صنعت میں دو بڑی کمپنیوں سے ایک فلپ مورس کو رواں مالی سال 2023-24ء کی پہلی ششماہی کے دوران فروخت میں تقریباََ 11 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

 فلپ مورس کے جاری کردہ ششماہی نتائج کے مطابق سیلز میں کمی کا کمپنی کے خالص منافع پر براہ راست اثر پڑا اور یہ 1.53 ارب روپے سے 76 فیصد کم ہو کر 3 کروڑ 72 لاکھ روپے رہ گیا۔

اسی طرح پہلی سہ ماہی میں کمپنی کو منافع میں 102 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جو سیلز کے براہ راست متناسب ہے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں پہلی سہ ماہی میں 33 فیصد کم ہوئی۔

حکومت نے فروری 2023 میں منی بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس بڑھا دیا تھا۔ پرافٹ پر شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے حکام نے بتایا کہ مارچ 2023 میں ان کی فروخت تقریباً 1.84 ارب سٹکس رہی جبکہ منی بجٹ جاری ہونے سے قبل جنوری 2023 میں فروخت کا حجم 4.84 ارب سٹکس تھا۔

حکومت کی جانب سے 170 ارب روپے کے منی بجٹ میں اضافی ٹیکسوں کے بعد سے سگریٹ کمپنیوں نے قیمتوں میں 250 فیصد فی پیکٹ اضافے کا اعلان کر دیا۔ منی بجٹ میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 150 فیصد اضافے کے ساتھ سیلز ٹیکس 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا۔ سگریٹ کے مختلف برانڈز جیسے مارلبورو، گولڈ لیف، کیپسٹان اور گولڈ فلیک اس وقت تقریباً 500 سے 550 روپے فی پیک میں فروخت ہو رہے تھے۔

ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے نے ٹیکس نہ دینے والی مقامی کمپنیوں کا کاروبار چمکا دیا جن کی اوسط قیمت 100 روپے فی پیک تھی جو قانونی طور پر کم از کم مقرر قیمت سے کافی نیچے ہے۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 100 سے زائد غیر قانونی سگریٹ برانڈز مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں۔ ان برانڈز نے حکومت کے قائم کردہ تمام ضوابط کو بری طرح نظر انداز کیا ہے۔

حال ہی میں فلپ مورس پاکستان نے اپنے سگریٹ برانڈز میں سے ایک کی ریٹیل قیمت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طے شدہ شرح سے کم 330 روپے ایف ای ڈی ٹیئر-1 کے لیے مقرر کی ہے۔ پی یم آئی کے مطابق مارلبورو ایڈوانس، رائلز، اور مارلبورو گولڈ کی خوردہ قیمتیں بالترتیب 326.27 روپے، 118.64 روپے اور 409.32 روپے فی پیک ہوں گی۔

فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے مطابق خوردہ قیمت بمع سیلز ٹیکس کی مجموعی قیتم سے کم میں سگریٹ فروخت کرنا جرم ہے اور ایسا کرنے والے کو ایکٹ کی شق بی کے تحت 20 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور پانچ سال تک قید ہو سکتی ہے۔ مارلبورو ایڈوانس کی خوردہ قیمت اب ایکٹ کے مطابق ہے۔

اس سے قبل فلپ مورس پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر نے غیر قانونی تمباکو کمپنیوں کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹریک اینڈ ٹریس کا نفاذ مستقل اور سختی سے ہونا چاہیے تاکہ قانونی صنعت کے لیے صحیح نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ فلپ مورس پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف فنانشل آفیسر محمد ذیشان نے مئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یورو مانیٹر کی تحقیق کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ 2022 میں پاکستان کے پاس غیر قانونی سگریٹ کا تقریباً 40 فیصد مارکیٹ شیئر تھا، جس سے سب سے بڑے غیر قانونی سگریٹ کے طور پر اس کی جنوبی ایشیا میں مارکیٹ پوزیشن مستحکم ہو گئی۔

فلپ مورس پاکستان نے مارچ اور اپریل 2023 کے دوران فروخت میں 70 فیصد کی نمایاں کمی اور پیداوار کے حجم میں 60 فیصد کمی دیکھی۔ غیر قانونی سگریٹ کے پھیلاؤ میں اضافے کی وجہ سے یہ منفی رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی مجموعی ٹیکس آمدنی کا 98 فیصد حصہ سگریٹ کمپنیوں سے آتا ہے جبکہ غیر قانونی سگریٹ ساز صرف 2 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ لیکن غیرقانونی کمپنیاں مارکیٹ کے 40 فیصد حصے پر قابض ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here