بجلی صارفین پر کون سے 9 قسم کے ٹیکس عائد ہیں؟

422

لاہور: حکومت بجلی کے ایک اوسط بل پر مجموعی طور پر 9 الگ الگ ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔

ٹیکسوں کے اس غیر متزلزل نفاذ نے شہریوں پر پڑنے والے مالی بوجھ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر حکومت اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں پر سخت تنقید کو ہوا دی ہے کیونکہ بے تحاشہ ٹیکسوں کی وجہ سے بجلی کے بل ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے صارفین پر واقعتاََ بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے کئی شہروں میں احتجاج بھی کیے گئے۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے مطابق بجلی کے بلوں پر عائد مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی تفصیل کچھ یوں ہے:

الیکٹریسٹی ڈیوٹی: یہ صوبائی لیوی ہے جو ایک فیصد سے 1.5 فیصد تک تمام صارفین پر لاگو ہوتی ہے۔

جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی): وفاقی حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت عائد کیا جاتا ہے اور تمام صارفین پر مکمل بل پر 17 فیصد کی شرح سے لاگو ہوتا ہے۔

پی ٹی وی لائسنس فیس: گھریلو صارفین پر 35 روپے اور کمرشل صارفین پر 60 روپے پی ٹی وی لائسنس فیس وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کی جاتی ہے۔ چاہے آپ پی ٹی وی دیکھتے ہوں یا نہ دیکھتے ہوں۔ یہ فیس براہ راست صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔

فنانسنگ کاسٹ (ایف سی) سرچارج: یہ سرچارج 0.43 فی کلو واٹ آور کے حساب سے تمام کیٹیگریز کے صارفین پر لاگو ہوتا ہے، ماسوائے لائف لائن صارفین۔ یہ دراصل گردشی قرضے کو کم کرنے کیلئے عائد کیا گیا ہے۔ کے الیکٹرک صارفین سے یہ رقم ’پی ایچ ایل ہولڈنگ‘ کے نام پر لی جاتی ہے۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے):  بل میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) بھی شامل ہوتی ہے جو بجلی بنانے کے ایندھن (کوئلہ، فرنس آئل یا گیس) کی لاگت پر منحصر ہوتی ہے جس کا تخمینہ ہر ماہ لگایا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایندھن کی اصل لاگت اور ریفرنس لاگت (نیپرا کی تجویز کردہ) کے فرق سے نکالی جاتی ہے۔

اگر کسی ماہ مجموعی فیول کاسٹ، ریفرنس کاسٹ سے زیادہ ہو تو بل میں ایف پی اے کی مد میں اضافہ ہو گا جبکہ اگر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ ریفرنس کاسٹ سے کم ہو تو ایف پی اے کی مد میں کمی آتی ہے۔

ایکسٹرا ٹیکس: ایسے صنعتی اور کمرشل صارفین جو ایف بی آر کی فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہوں ان پر بل کی مختلف سلیبس کے حساب سے 5 فیصد سے 17 فیصد تک ایکسٹرا ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

مزید ٹیکس (Further Tax): یہ اضافی ٹیکس 3 فیصد کی شرح سے گھریلو، زرعی، بلک کنزیومر اور سٹریٹ لائٹ کنکشن کو چھوڑ کر اُن تمام صارفین پر عائد ہوتا ہے جن کے پاس سیلز ٹیکس ریٹرن نمبر (ایس ٹی آر این) نہیں ہوتا۔

انکم ٹیکس: یہ ٹیرف کے لحاظ سے مختلف شرح سے ان صارفین کے بل میں شامل ہوتا ہے جن کا ماہانہ بل 25 ہزار روپے سے متجاوز ہو اور وہ فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔

سیلز ٹیکس: کمرشل صارفین جن کے بل 20 ہزار روپے تک ہوں ان پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے جبکہ 20 ہزار روپے سے زائد بل ہونے کی صورت میں ساڑھے 7 فیصڈ سیلز ٹیکس لیا جاتا ہے۔

ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی یہ حیران کن تعداد نے اس تشویشناک حقیقت کو جنم دیتی ہے کہ پاکستانی صارفین خطے میں یوٹیلیٹی بلوں پر سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔ اس بوجھ نے عام شہریوں کی دیگر ضروریات زندگی کیلئے مالی وسائل پر کاری ضرب لگائی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here