‘آئی پی پیز بحران کے اصل مجرم’، سینیٹ قائمہ کمیٹی کا 1.3 ٹریلین روپے کپیسٹی پیمنٹس پر اظہارِ تشویش، نادہندگان کی فہرستیں طلب

302

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی نے بجلی کے بے تحاشہ بلوں کے اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے 29 اگست کو اجلاس منعقد کیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے پاور ڈویژن کو حکم دیا کہ وہ تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOS) کے نادہندگان اور بقایا جات کی  تفصیلات مرتب کرکےجمع کرائے۔

اس موقع پر پاور ڈویژن حکام نے اجلاس کو بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (ائی پی پیز) کو کپیسٹی پیمنٹس کا حجم ریکارڈ 1.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، انہوں نے شرح مبادلہ، درآمدی کوئلے کی قیمتوں، آر ایل این جی، اور کبور کو کپیسٹی پیمنٹس میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تقریباََ 467 ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں بجلی پر سبسڈی کیلئے 976 ارب روپے رکھے تھے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے آئی پی پیز کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا اصل مجرم قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی پی پیز نے تین اہم پاور پلانٹس کے انوائسز میں اضافہ کیا ہے، اس حقیقت کو پاور ڈویژن کے سیکرٹری نے بھی تسلیم کیا ہے۔ سینیٹر ابڑو نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کے بحران کو مؤثر طور پر ختم کرنے کیلئے آئی پی پی کا مسئلہ حل کرنا اشد ضروری ہے۔

کمیٹی نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں ہر ڈسکو کے نادہندگان اور بقایا جات کی فہرست فراہم کرے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کا شعبہ کس قدر پیچیدگیوں اور مسائل کا شکار ہے۔ بہت سے سٹیک ہولڈرز آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر نظرثانی کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔

ہالمور پاور جنریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، لال پیر اور پاک جین پاور کے ڈائریکٹر ظہیر گھانگھرو کے مطابق “ایک بنیادی سوال جو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے وہ آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگیوں سے متعلق ہے۔ دراصل یہ ٹیرف کا ڈھانچہ واضح نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں سمجھنا چاہتا کہ آئی پی پیز کا ایک ہی خریدار ہے۔ اس لیے کپیسٹی پیمنٹس کا مسئلہ موجود ہے۔ یہ تب ہی بدلے گا جب مارکیٹ کا ڈھانچہ تبدیل ہو گا لیکن مارکیٹ کا ڈھانچہ بدلنا تب ہی ممکن ہے جب بجلی کا شعبہ کپیسٹی پیمنٹس ادا کرنے کے قابل ہو۔”

واضح رہے کہ آئی پی پیز “ٹیک یا پے” ماڈل پر قائم ہوئے تھے۔ معاہدے کے تحت آئی پی پیز ایک متفقہ رقم لینے کے حق دار ہیں ایسی صورت میں جب خریدار پوری رقم ادا نہیں کر رہا۔ یہ شرائط کا مقصد سپلائر کو مکمل طور پر نقصان سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے سی ای او روحیل محمد کے مطابق “پاور پلانٹس ٹیک یا پے معاہدے پر قائم کیے گئے تھے کیونکہ کوئی بھی قرض دہندہ اس وقت تک انہیں مالی وسائل فراہم نہیں کرے گا جب تک ان کی پیدا کردہ بجلی ایک متعین مقدار میں خریدی نہ جا رہی ہو۔ اور اس کے لئے واحد خریدار حکومت تھی۔ خریدار زیادہ ہوں تو آپ قرض دہندہ کو مطمئن کر سکتے ہیں لیکن پاور سیکٹر میں ایسا کچھ نہیں تھا، بس حکومت ہی بجلی خریدتی ہے۔”

 انہوں نے مزید بتایا کہ کپیسٹی پیمنٹس کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کیلئے استعمال ہوتا ہے، قرض واپسی کی مدت عموماََ دس سال ہوتی ہے تاہم کئی آئی پی پیز اب بھی اپنی سرمایہ کاری کی واپسی کے انتظار میں ہیں۔

گھانگھرو بتاتے ہیں کہ “آئی پی پیز کے ٹیرف کا اہم حصہ ایندھن کی لاگت ہے۔ اگر اس پر قابو پا لیں تو پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے۔ حالیہ مسئلہ اور ٹیرف میں اضافہ ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کی وجہ سے ہے، بالخصوص بجلی چوری کی وجہ سے۔ بل ادا کرنے والے صارفین بھی چوری شدہ بجلی اور ڈسکوز کی نااہلی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا زیادہ تر ادائیگی کرنے والے صارفین سولر اور نیٹ میٹرنگ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔”

روحیل محمد کہتے ہیں کہ ملک میں بجلی کی طلب میں کمی کی وجہ سے فی یونٹ کپیسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا۔ نئے پاور پلانٹس کو یہ امریکی ڈالر میں ادا کی جاتی ہے اور گزشتہ چند سالوں کے دوران روپے کی گراوٹ نے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

کپیسٹی پیمنٹ فی یونٹ کے حساب سے ہوتی ہے۔ استعمال شدہ بجلی کے یونٹوں سے ٹیرف کو تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے بجلی کی کھپت کم ہوئی ہے تو کپیسٹی پیمنٹ فی یونٹ بڑھتی گئی۔

تاہم ان بنیادی عوامل کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین ہو چکا ہے۔ قائمہ کمیٹی کی جانب سے اس معاملے کو “بے مثال” قرار دینا ہی اس کی سنگینی کی وضاحت کیلئے کافی ہے۔

گھانگھرو کے مطابق شعبہ بجلی کے فیصلہ ساز درست اعدادوشمار سے محروم ہیں جن کی بنیاد پر وہ مسائل کو حل کر سکیں۔ نتیجتاً اس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ہم جس چیز کی پیمائش نہیں کر سکتے اس پر قابو کیسے پائیں۔

“ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم پاور پلانٹ میں پیدا ہونے والی بجلی کے ہر یونٹ کو آخری صارف تک ٹریس کرنے کے قابل ہوں لیکن نظام کی پیچیدگی اور صارفین کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ مختصر مدت میں ممکن نہیں۔”

 لیکن اس سب کا متبادل کیا ہے؟ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں۔ بجلی کی پیداوار سے لے کر ملک کے تمام 11 کے وی فیڈرز پر ترسیل تک حساب کتاب رکھا جائے، کم از کم صنعتی صارفین کو ایک سے دو سال کیلئے رعایتی نرخوں پر بجلی دی جائے تاکہ طلب کا تعین ہو سکے اور پھر اسی حساب سے پاور پلانٹس کو مہنگی درآمدی گیس سے چلانے کی بجائے مقامی گیس سے چلایا جائے۔

اس حوالے سے تقسیم کار کمپنیوں کی مکمل نجکاری اور چینی قرضوں پر ری سٹرکچرنگ کیلئے حکومتی سطح پر بات چیت بھی ممکنہ آپشنز ہیں، تاہم یہ بعد کی کہانی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here