بھارت: ریلائنس اندسٹریز کی ممکنہ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت، چپ سازی کیلئے امکانات زیر بحث

708
From spice-and-yarn origins to Billion dollar Reliance Industries

لاہور: بھارت کے صف اول کے صنعتکار کھرب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا پختہ تہیہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو اس کی سپلائی چین کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور بھارت میں چپ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کر سکتا ہے۔

ان منصوبوں کے بارے میں براہ راست علم رکھنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سے انرجی سیکٹر کی طرف آنے والے اس گروپ نے ان غیر ملکی چپ سازوں، جو ٹیکنالوجی کے شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کے ساتھ ابتدائی مرحلے کی بات چیت کی ہے۔ اس شخص نے مزید کہا کہ “اس کام کیلئے ارادہ ہے مگر کوئی ٹائم لائن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ غیر ملکی چپم سازوں کے نام فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکے۔

ذرائع کو میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا اور انہوں نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ ریلائنس، جس کی سیمی کنڈکٹر بنانے میں دلچسپی پہلے نہیں بتائی گئی تھی، نے بار بار کی درخواست کے باوجود اس ضمن میں اپنے کمنٹس نہیں دیئے۔

مودی نے اعلان کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک دنیا کے لیے ایک چپ میکر بن جائے لیکن وہ عزائم جو 2021 میں ظاہر کیے گئے تھے، کو دھچکا لگا ہے۔ ملک میں ابھی تک چپ بنانے کا کوئی پلانٹ نہیں ہے، حالانکہ بھارت کا ویدانتا اور تائیوان کا فوکسکون (Foxconn) دونوں پلانٹس کیلئے عمارتوں کی تلاش کررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ریلائنس سیمی کنڈکٹرز کے کاروباری معاملات میں میرٹ کو دیکھتی ہے کیونکہ اگر میرٹ نہ ہوتو اس کا ٹیلی کام اور الیکٹرانک آلات کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔ 2021 میں، مثال کے طور پر، کمپنی نے چپ کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے گوگل کے ساتھ تیار کردہ کم قیمت والے سمارٹ فون کے اجراء میں تاخیر کی۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹرز کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے پیش گوئی کی ہے کہ ان کی مقامی چپ مارکیٹ کی مالیت 2028 تک 80 ارب ڈالر ہو جائے گی جبکہ اس وقت 23 ارب ڈالر ہے۔

امریکہ میں قائم چپ میکر گلوبل فاؤنڈریز کے سابق ہندوستانی ایگزیکٹو ارون مامپازی (Arun Mampazhy) کا کہنا ہے کہ ریلائنس جس کا مارکیٹ کیپٹل تقریباً 200 ارب ڈالر ہے، سیمی کنڈکٹرز میں تلاش کرنے کے لیے ہندوستان میں سب سے بہترین پوزیشن والی کمپنیوں میں سے ایک ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مالی وسائل بے انتہا ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ کیسے کام کرنا ہے۔

لیکن چپ مینوفیکچرنگ ایک ایسی صنعت ہے جو تاریخی طور پر اپنے دامن میں اقتصآدی عروج و زوال کی داستانیں لیے ہوئے ہے اور اسے بہت زیادہ مہارت کی ضرورت ہے۔

ارون مامپازی کہتے ہیں کہ “ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ایک ٹیک پارٹنر کا حصول ریلائنس کے لیے آر یا پار والا معاملہ ہو سکتا ہے۔”

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے 10 ارب ڈالر کی مراعات کی پیشکش کے باوجود ہندوستان کے چپ عزائم کو دھچکا لگا ہے۔

ویدانتا اور فوکسکون کے درمیان 19.5 ارب ڈالر کا منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی جولائی میں زمین بوس ہو گیا کیونکہ دونوں فریق ٹیک پارٹنر کو تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، فوکسکون نے شکایت کی کہ پراجیکٹ متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھا ۔

فوکس کون نے اس کے بعد ویدانتا کے بغیر ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اندرونی ذرائع  کے مطابق ریلائنس کئی مہینوں سے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہے جس سے اسے اس منصوبے میں 30 فیصد حصہ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here