پاور سیکٹر کو گزشتہ 12 سالوں میں 34 کھرب روپے کی بجلی سبسڈی دی گئی

361

لاہور: پاکستان کا پاور سیکٹر بے تحآشا سبسڈی کے بوجھ تلے دبا ہے، جس کا حجم 12 سال کے عرصے میں تقریباً 34 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

اس سیکٹر میں اوسطاً 283 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی دی گئی ہے، اس  سبسڈی کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔

30 جون 2023 کے آخر تک پاکستان میں گردشی قرضہ 23 کھرب روپے کی خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا۔

سال کے آغاز میں گردشی قرضے کا تخمینہ تقریباً 12 کھرب روپے تھا۔ گردشی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ان گہرے مالیاتی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے جن کا پاور سیکٹر کو سامنا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے گردشی قرضوں کی گنی پر قابو پانے کے لیے بجلی کے نرخوں میں بڑا اضافہ کیا تھا لیکن اس میں حکومت بری طرح ناکام رہی۔

گردشی قرضوں میں اضافے کی وجہ شرح سود میں اضافے کے نظام کو بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ گردشی قرضے کا بڑا حصہ آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) کو جاتا ہے۔ اگر شرح سود میں اضافہ کیا جائے تو گردشی قرضہ بڑھتا رہتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here