انڈیا-کینیڈا تعلقات میں کشیدگی بڑھنے سے تجارت کیسے متاثر ہو سکتی ہے؟

830

 

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈین حکام سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے “معتبر الزامات” کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے بعد بھارت اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات متاثر ہوئے ہیں۔

منگل کو نئی دہلی نے ان الزامات کو “مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور کینیڈا سے کہا کہ وہ اپنی سرزمین میں بھارت مخالف عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔

کینیڈا نے اس ماہ کہا کہ اس نے ہندوستان کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر بات چیت کو معطل کر دیا ہے، جب دونوں ممالک صرف تین ماہ بعد معاہدے پر دستخط کرنے والے تھے۔

اندازے کے مطابق کینیڈا اور ہندوستان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ (CEPA) دو طرفہ تجارت کو 6.5 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، جس سے 2035 تک کینیڈا کو 3.8 سے 5.9 ارب ڈالر کا جی ڈی پی حاصل ہو گا۔

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی دالوں کی مانگ کینیڈین کسانوں کے لئے نفع بخش رہی، جب کہ ہندوستانی فارماسیوٹیکل اور سافٹ ویئر کمپنیوں نے کینیڈین مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے۔

کینیڈا سے بڑی درآمدات میں کھاد کے علاوہ توانائی کی مصنوعات جیسے کوئلہ، کوک اور بریکیٹس شامل ہیں، جب کہ ہندوستان اشیائے خوردونوش، گارمنٹس، انجنیئرنگ مصنوعات جیسے آٹو پارٹس، ہوائی جہاز کا سامان، اور الیکٹرانک اشیاء کیننڈآ کو برآمد کرتا ہے۔

2022 میں دونوں ممالک کے درمیانج اشیا کی تجارت میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھا ہے، کینیڈا کو ہندوستانی برآمدات 4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور کینیڈا سے درآمدات بھی 4 ارب ڈالر کی ہیں۔

کینیڈا ہندوستان کا 17 واں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے، جس نے 2000 سے 3.6 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ کینیڈا کے پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے ہندوستانی سٹاک اور قرض کی منڈیوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

کینیڈا کے پنشن فنڈ CPP نے مارچ 2023 میں گزشتہ مالی سال کے اختتام تک ریئل سٹیٹ، قابل تجدید ذرائع اور مالیاتی شعبے جیسے شعبوں میں ہندوستانی منڈیوں میں اپنی سرمایہ کاری کو تقریباً 15 ارب ڈالر تک بڑھایا۔

6 سو سے زیادہ کینیڈین کمپنیوں کی ہندوستان میں مضبوط موجودگی ہے، جب کہ 30 سے ​​زیادہ ہندوستانی کمپنیوں نے کینیڈا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔

2018 سے کینیڈا بھارتی طلباء کے لئے سب سے بڑا ملک رہا ہے۔ کینیڈین بیورو آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ 2022 میں ان کی تعداد 47 فیصد بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ 20 ہزارہو گئی، جو کل بیرون ملک مقیم طلباء کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بگڑتے تعلقات بھارت کی سکھ اکثریتی ریاست پنجاب میں ہزاروں سکھ خاندانوں کے معاشی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے رشتہ دار کینیڈا میں ہیں، جو لاکھوں ڈالر وطن واپس بھیجتے ہیں۔

ملک کی 2021 کی مردم شماری کے مطابق کینیڈا کی سکھ آبادی کا حصہ 20 سالوں میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو کر 2.1 فیصد ہو گیا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں سکھ اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کی تلاش میں بھارت سے ہجرت کر چکے ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here