ٹیلی نار پاکستان کا حصول، پی ٹی سی ایل کے40 کروڑ ڈالر قرض کے لئے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن سے مزاکرات

729

 

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ساتھ 40 کروڑ ڈالر کے قرض کے  لئے بات چیت کر رہی ہے، پی ٹی سی ایل اس رقم سے ممکنہ طور پرٹیلی نار پاکستان کوخریدنا چاہتا ہے۔ 

دی نیوز کی ایک رپورٹ میں مطابق معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پی ٹی سی ایل اور آئی ایف سی اس وقت 40 کروڑ ڈالر کے قرض کے معاہدے کو مکمل کرنے کے اگلے مراحل میں ہیں۔

ایک جامع مستعدی کے عمل کے بعد پی ٹی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 29 اگست 2023 کو مطلوبہ کمپنی کو ایک بائنڈنگ پیشکش جمع کرانے کی اجازت دی۔ جب کہ سرکاری دستاویزات میں کمپنی کے نام کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا گیا، یہ بات بڑے پیمانے پر مشہور تھی کہ ٹیلی نار پاکستان اپنے اثاثے بیچنے اور اور ملک سے نکلنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

توقع ہے کہ ٹیلی نار کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس نومبر یا دسمبر 2023 میں ایک بائنڈنگ پیشکش پر غور کرنے اور ممکنہ طور پر منظور کرنے کے لیے ہوگا۔ ٹیلی نار کو اب تک لبنانی گروپ اور پی ٹی سی ایل کی طرف سے دو آفرزموصول ہو چکی ہیں۔ 

تاہم اس عمل کے آگے بڑھنے سے پہلے کئی اہم سوالات کو حل کرنا ضروری ہے۔ پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار پاکستان کو خریدنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے، جس کا تخمینہ 40 سے 50 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ صرف 26 فیصد شیئرز کسی دوسرے شیئر ہولڈر کے پاس ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ ترمالی بوجھ حکومت پاکستان پر پڑے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار پاکستان کے درمیان ممکنہ معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس لیے اسے ابھی تک کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) جیسے ریگولیٹری اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا۔ یہ پروسیجرل تقاضے ٹیلی نار کے بورڈ کی جانب سے منظوری دینے کے بعد پورے کیے جائیں گے، جو اگلے دو ماہ کے اندر متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے واضح کیا کہ ٹیلی نار نے کسی ممکنہ خریداری کے لیے اتھارٹی سے باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی متعلقہ دستاویزات جمع کرائی گئیں۔ ٹیلی نار پاکستان کے ترجمان نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا انہیں کوئی پیشکش موصول ہوئی ہے اور اسے کب حتمی شکل دی جائے گی اور ٹیلی نار کے ایشیا پیسیفک سربراہ کے دورے کو آن بورڈنگ پروگرام کا حصہ قرار دیا ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here