پاکستان اور چین کے درمیان گوادر پورٹ اور سی پیک پر پیش رفت کے معاہدے پر دستخط

631

 

لاہور:پاکستان اور چین نے گوادر پورٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے  کے لیے ایک نیا مشاورتی معاہدہ کیا ہے، جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم عنصر ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے 20 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں میں سے ایک تھا۔

اس معاہدے کے تحت دو چینی ریاستی ادارے گوادر پورٹ پر ڈویلپمنٹ اور رفتار کو بڑھانے کے لیے تکنیکی، فکری اور مشاورتی معاونت فراہم کریں گے۔ مزید برآں سی پیک کے مین لائن-I منصوبے کے ضمیمہ کا مقصد اس کے دائرہ کار اور ڈیزائن کو کم کرنا ہے، تاکہ تعمیراتی لاگت کو 6.7 ارب ڈالر سے کم کیا سکے۔

گوادر پورٹ کو سی پیک کے لیے اہم اور گیٹ وے سمجھا جاتا ہے، اس منصوبے نے انفراسٹرکچر کی ترقی اور صنعتی زون کے استعمال سے متعلق مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ سی پیک کی پہلی دہائی کے دوران پاکستان نے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو جزوی طور پر خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام میں ناکامی کی وجہ سے ابتدائی طور پر اعلان کردہ 62 ارب ڈالر سے کم ہے۔

جنرل کارگو کو ہینڈل کرنے اور مکمل آپریشنل صلاحیت حاصل کرنے کے باوجود گوادر پورٹ کا استعمال سی پیک کے ابتدائی دس سالوں میں کم رہا۔ گوادر میں متعدد منصوبے تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی اور بجلی جیسی ضروری خدمات کی فراہمی سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور چین نے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جن میں رابطے، خوراک کی حفاظت، تحقیق، میڈیا کے تبادلے، خلائی تعاون، اربن سسٹین ایبل ڈوہلپمنٹ، صلاحیت کی تعمیر، معدنی ترقی، صنعتی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، اور ویکسین کی ترقی جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اہم مقاصد میں سے ایک گوادر پورٹ کی تیز رفتار ترقی ہے، جس میں چینی ریاستی ادارے تکنیکی مہارت فراہم کرتے ہیں۔ ارضیاتی اور معدنی سروے اور ترقی سمیت معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here