کابینہ نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر شیئرنگ فریم ورک کی منظوری دیدی، 5G سپیکٹرم نیلامی کمیٹی تشکیل

466

 

ٹیلی کام انفراسٹرکچر شیئرنگ فریم ورک ٹیلی کام کمپنیوں کو اہم وسائل جیسے ٹاورز، انٹینا، کیبل ڈکٹ اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت میں نگران وفاقی کابینہ نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر شیئرنگ فریم ورک کو اپنی منظوری دے دی ہے اور 5G سپیکٹرم کی نیلامی کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ٹیلی کام انفراسٹرکچر شیئرنگ فریم ورک ٹیلی کام کمپنیوں کو اہم وسائل جیسے ٹاورز، انٹینا، کیبل ڈکٹ اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا اور ممکنہ طور پر آپریشنل اخراجات کو کم کرنا ہے۔ مزید برآں توقع ہے کہ فریم ورک نئی کمپنیوں کے لیے ڈومیسٹک ٹیلی کام مارکیٹ میں داخل ہونے کے مواقع پیدا کرے گا۔

ایک پریس بریفنگ کے دوران نگراں آئی ٹی وزیر ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کی سربراہی میں نیلامی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو تیز تر 5G نیٹ ورک کے رول آؤٹ کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت و پیداوار کے ذمہ دار وزراء، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام پر مشتمل ہے۔

کمیٹی کی بنیادی ذمہ داری 700 میگاہرٹز، 1,800 میگاہرٹز، 2,100 میگاہرٹز، اور 2,600 میگاہرٹز سمیت مختلف فریکوئنسی بینڈز میں سپیکٹرم کی دستیابی کا جائزہ لینا ہوگی۔ ان سپیکٹرم وسائل کی نیلامی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی فراہم کردہ سفارشات پر مبنی ہوگی۔

ڈاکٹر سیف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں کام کرنے والی چار ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے موجودہ سپیکٹرم مختص صارفین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، جس کی وجہ سے نیلامی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وزارت آئی ٹی کے حالیہ اقدامات کی تعریف کی جن کا مقصد آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے میں برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات میں مقامی موبائل فون کی پیداوار، فری لانسر کی گروتھ میں معاونت، اور درآمدات پر انحصار کو کم کرنا شامل ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ساتویں بڑی موبائل فون مارکیٹ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جس کے صارفین کی تعداد 19 اشاریہ 4 کروڑ ہے۔ حکومت کا مقصد سستی اور اعلیٰ معیار کے موبائل فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔

ڈاکٹرسیف نے پچھلی حکومتوں کی کوششوں کو تسلیم کیا اور گزشتہ دو ماہ کے دوران آئی ٹی کی وزارت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے میں برآمدات میں اضافہ ہوگا، مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، زرمبادلہ کا تحفظ ہوگا، اور ہائی ٹیک انڈسٹری میں روزگار پیدا ہوگا۔

آئی ٹی ایکسپورٹرز کو مزید سہولت فراہم کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس (ESFCAs) میں برآمدی آمدنی کے لیے برقراری کی حد کو 35فیصڈ سے بڑھا کر 50فیصد کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی آئی ٹی برآمد کنندگان کو سٹیٹ بینک یا دیگر بینکوں سے منظوری کی ضرورت کے بغیر ان اکاؤنٹس سے ادائیگی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نئے اقدامات میں فری لانسرز کے لیے اپنے ای ورکنگ سینٹرز کے قیام کے لیے 1 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی شامل ہے، جو فری لانسرز کے لیے مناسب کام کی جگہوں کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ فری لانسرز کے پاس سالانہ 3 ہزار ڈآلر تک کمانے کی صلاحیت ہے، جو قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here