کسان کا بیٹا جس نے دنیا کی بڑی آٹو کمپنیوں میں سے ایک ٹویوٹا کی بنیاد رکھی

669

سن 1924ء میں جاپان میں ایک کسان کے بیٹے ساکی چی ٹویوڈا (Sakichi Toyoda) نے کپڑا بُننے والی پہلی آٹومیٹک مشین ایجاد کی۔ یہ مشین صرف اس حد تک آٹومیٹک تھی کہ کسی خرابی کی صورت میں خودکار طور پر رُک جاتی تھی۔ اس ایجاد نے آگے چل کر ٹویوٹا انڈسٹریز کارپوریشن قائم کرنے میں مدد دی جو آج دنیا کی بڑی انڈسٹریل کارپوریشنز میں سے ایک ہے۔

ابتدائی طور پر اس کا نام ٹویوڈا آٹومیٹک لوم ورکس (Toyoda Automatic Loom Works) گیا اور یہ کمپنی لُومز بنا کر ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو فروخت کرتی تھی۔

تاہم ٹویوڈا آٹومیٹک لوم ورکس کے بانی ساکی چی ٹویوڈا کے بیٹے ’’کی چیرو ٹویوڈا (Kiichiro Toyoda)‘‘ نے 1933 میں اعلان کیا کہ وہ لومز بنانے کے علاوہ گاڑیاں بھی بنائیں گے۔ 25 ستمبر 1934ء کو انہوں نے ٹویوٹا کا پہلا ’’ٹائپ اے انجن‘‘ تیار کر لیا جو ایک سال قبل بننے والے شیورلٹ 207 انجن کی نقل تھا۔ 1935ء میں ٹویوٹا کی پہلی ’’سیڈان اے وَن‘‘ کار مارکیٹ میں آ گئی تاہم اس کا محض انجن ٹویوٹا کا اپنا بنایا ہوا تھا۔ کار کا ڈیزائن وغیرہ سب کسی دوسری کمپنی سے بنوایا گیا۔

گو کہ کیچیرو ٹویوڈا کو آٹوموبل مینوفیکچرنگ کا زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ انہوں نے کاروں کی بجائے ٹرک بنانے پر توجہ مرکوز کی اور 25 اگست 1935ء کو پہلا ’’جی وَن‘‘ ٹرک متعارف کرایا جو اس زمانے کے فورڈ ٹرکوں کی نقل تھا تاہم قیمت میں فورڈ سے سستا تھا۔ ایک سال میں کمپنی نے 379 جی وَن ٹرک بنا کر بیچے۔

1936 میں ٹویوٹا نے پہلی مسافر کار ’ماڈل ڈبل اے‘ بنائی جو اس زمانے کی فورڈ اور جی ایم کاروں سے سستی تھی۔ جولائی 1936ء میں کمپنی کو جی وَن ٹرکوں کی ایکسپورٹ کا پہلا آرڈر چین سے ملا۔

اَب تک تمام گاڑیاں کمپنی کے بانی کیچیرو ٹویوڈا کے خاندانی نام ’’ٹویوڈا‘‘ کے تحت بنائی جا رہی تھیں۔ ستمبر 1936ء میں انہوں نے لوگو بنانے کیلئے ایک عوامی مقابلے کا اعلان کیا۔ 27 ہزار افراد نے مختلف ڈیزائن بنائے جن میں سے تین پسند کیے گئے تاہم یہاں کمپنی کا نام معمولی ترمیم سے Toyota رکھ دیا گیا۔ یہ نام رکھنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ جاپانی زبان میں اسے لکھنے میں برش کو آٹھ بار اٹھانا پڑتا تھا اور ٹویوڈا فیملی کے نزدیک یہ ’’لکی نمبر‘‘ تھا۔ نام میں ترمیم کی دوسری وجہ یہ تھی کہ لفظ Toyoda جاپانی میں چاولوں کی کاشت کاری اور کھیتی باڑی سے منسوب ہے اور خاندان کے بڑے چونکہ کسان تھے اس لیے یہ لفظ اُن کا خاندانی نام بن گیا تھا۔ تاہم گاڑیاں بنانے والی کمپنی کیلئے موزوں نہیں تھا۔ نیا نام کیچیرو ٹویوڈا کے بہنوئی رزابورو ٹویوڈا (Rizaburo Toyoda)، جنہیں کمپنی کا پہلا صدر بنایا گیا تھا، نے عوامی مقابلے میں منتخب کیا تھا۔

19 ستمبر 1936ء کو جاپان کی شاہی حکومت نے سرکاری طور پر ٹویوٹا آٹومیٹک لوم ورکس کو آٹوموٹیو مینوفیکچرر کے طور پر نامزد کر دیا اور فورڈ اور جنرل موٹرز جیسی غیرمقامی کمپنیوں کو جاپان میں گاڑیاں فروخت کرنے سے روکنے کیلئے مقامی کمپنی کو سرمایہ کاری فراہم کی۔

دوسری عالمی جنگ میں ٹویوٹا نے جاپانی فوج کیلئے ہزاروں ٹرک بنائے جس کا بدترین خمیازہ اسے بھگتنا پڑا۔ جاپان کے ہتھیار ڈالنے سے ایک روز قبل 14 اگست 1945ء کو اتحادیوں نے ٹویوٹا کا ٹرک پلانٹ بموں سے اڑا دیا۔ شکست کے بعد امریکا کی کمان میں قابض قوتوں نے جاپان میں کاروں کی پیداوار بند کر دی۔ تاہم ٹویوٹا کو سِول استعمال کیلئے ٹرک سازی کی اجازت دی گئی تاکہ ملک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد مل سکے۔ اس دوران امریکی فوج نے بھی اپنے ٹرکوں کی مرمت کیلئے ٹویوٹا کیساتھ معاہدہ کیا۔

1949ء میں جاپانی آٹومیکرز کو دوبارہ مسافر کاریں بنانے کی اجازت تو مل گئی لیکن تب تک کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ اس کے پلانٹس بند ہو گئے اور ہزاروں ورکرز بے روزگار ہو گئے کیونکہ جنگ کے بعد ملک میں معاشی عدم استحکام کی وجہ سے مہنگائی کا راج تھا اور بینک کمپنی کو مالیاتی وسائل فراہم کرنے سے قاصر تھے۔ بالآخر بینک آف جاپان نے ٹویوٹا کو بیل آئوٹ پیکج دیا۔

پچاس کی دہائی کا آغاز بھی بحران زدہ ٹویوٹا کیلئے اچھا نہ تھا کیونکہ شمالی اور جنوبی کوریا لڑ پڑے تھے۔ امریکا بھی اس جنگ میں شامل تھا۔ تاہم ٹویوٹا کو امریکی فوجیوں کیلئے ایک ہزار ٹرک بنانے کا آرڈر مل گیا۔

ٹویوٹا کو دوبارہ کھڑا کرنے کیلئے اس کے اعلیٰ افسران کو امریکا لے جا کر فورڈ سمیت دیگر امریکی آٹومینوفیکچررز کا دورہ کرایا گیا اور ٹریننگ دی گئی جس کے خاطر خواہ نتائج نکلے۔ اس ٹیم نے واپس آ کر 1952ء میں ’’ٹویوپِٹ کرائون (Toyopet Crown)‘‘ بنائی، یہ کار اگلے تین سال تک آزمائشی مراحل سے گزرتی رہی اور 1955 میں مارکیٹ میں لائی گئی۔ یہ ٹویوٹا کی پہلی ڈیزائن کردہ کار تھی۔ اس سے قبل کاروں اور ٹرکوں کی ڈیزائننگ اور باڈی میکنگ آئوٹ سورس کی جاتی تھی۔ اَب ٹویوٹا نے آٹو ڈیزائن، فریمنگ اور باڈی میکنگ خود کرنا شروع کر دی جس سے اخراجات کم ہوئے اور کمپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگی تاہم 27 مارچ 1952ء کو اس کے بانی کیچیرو ٹویوڈا اچانک چل بسے۔

1955 میں کرائون کی کامیابی نے ٹویوٹا کیلئے بیرونی مارکیٹوں کے دروازے کھول دیے اور اسے جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکی ممالک سے لینڈ کروزر نوک ڈائون کٹس (knock-down kits) کے آرڈرز ملنے لگے۔

1957 میں ٹویوٹا نے تھائی لینڈ میں پہلی سیلز برانچ کھولی اور اسی سال آسٹریلیا کو لینڈ کروزر ایکسپورٹس کیں جبکہ 1958 میں برازیل میں پروڈکشن پلانٹ لگایا جو جاپان سے باہر کمپنی کی پہلی فیکٹری تھی۔

جولائی 1958 میں ٹویوٹا نے کرائون کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں قدم رکھا۔ تاہم یہ گاڑی امریکیوں کو متوجہ نہ کر سکی۔ کیونکہ یہ قیمت میں مہنگی اور کارکردگی میں امریکا کی جنرل موٹرز اور فورڈ کاروں سے کم تر تھی۔ دراصل یہ جاپان کی اُس زمانے کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کیلئے ڈیزائن کی گئی تھی اور امریکی ہائی ویز پر اس کی رفتار کم تھی۔ دسمبر 1960 میں کمپنی نے امریکا کو کرائون کی ایکسپورٹ بند کر دی۔

60ء اور 70ء کی دہائیوں میں جاپانی معیشت نے عروج دیکھا۔ اِن دو عشروں میں جاپانی حکومت نے انفراسٹرکچر اور صنعت کاری پر بے دریغ سرمایہ کاری کی جس کا فائدہ آٹوموبل کمپنیوں کو بھی پہنچا اور انہوں نے سستی کاریں بنانا شروع کیں۔ مشہورِ زمانہ ٹویوٹا کرولا اُسی دور کی یادگار ہے، یہ 1966ء میں بنائی گئی اور آج تک دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کار ہے۔

اب تک ٹویوٹا کی پروڈکشن اور سیلز کیلئے الگ الگ کمپنیاں کام کر رہی تھیں۔ 1982ء میں کمپنی کے نئے صدر شوئی چیرو ٹویوڈا (Shoichiro Toyoda) نے سیلز اور پروڈکشن کو ضم (merge) کر کے ٹویوٹا موٹر کارپوریشن بنا دی۔

1984 میں ٹویوٹا نے جنرل موٹرز کے اشتراک سے کیلی فورنیا میں نیو یونائٹڈ موٹر مینوفیکچرنگ انکارپوریشن قائم کی جس سے امریکیوں کو بھی چھوٹی اور سستی کاریں ملنے لگیں۔

یورپ میں ٹویوٹا کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 90ء کی دہائی میں کمپنی نے ٹویوٹا موٹر یورپ مارکیٹنگ اینڈ انجنئرنگ کمپنی قائم کی۔ 1998ء میں ٹویوٹا نے Daihatsu کے 51 فیصد شئیرز خرید لیے جبکہ 2001 میں ہینو موٹرز (Hino Motors) کو مکمل خرید لیا۔

2007ء میں ٹویوٹا کیمرے (Toyota Camry) کو “کار آف دی ائیر” کا خطاب ملا۔

2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے باعث درپیش مالی مسائل کی وجہ سے جنوری 2009 میں ٹویوٹا کو جاپان میں اپنی تمام فیکٹریاں 11 دن تک بند رکھنا پڑیں۔

2014 کی پہلی سہ ماہی میں ٹویوٹا نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ 50 لاکھ 70 ہزار کاریں فروخت کر کے ریکارڈ قائم کر دیا۔ 2020ء میں کمپنی نے ایک بار پھر سالانہ 95 لاکھ 28 ہزار کاریں فروخت کرکے جرمن آٹومیکر واکس ویگن (Volkswagen) سے پہلی پوزیشن چھین لی۔

پاکستان میں ٹویوٹا انڈس 1989ء میں ہائوس آف حبیب، ٹویوٹا ٹسوشو (Toyota Tsusho) اور ٹویوٹا موٹرز کے اشتراک سے قائم کی گئی۔

ٹویوٹا موٹرز کو سال 2023ء کیلئے فوربز میگزین نے دنیا کی 2 ہزار بہترین کمپنیوں کی فہرست میں 13ویں، سماجی اثر چھوڑنے والے بڑے برانڈز کی فہرست میں 11ویں اور صارفین کیلئے بہترین کمپنیوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا۔

ٹویوٹا موٹرز کے ملازمین کی تعداد تقریباََ پونے چار لاکھ ہے۔ فوربز، بلوم برگ اور سٹینڈرڈز اینڈ پوئرز کیپٹل آئی کیو کے مطابق ٹویوٹا کی سالانہ سیلز تقریباََ 270 ارب ڈالر، سالانہ منافع 19 ڈالر، اثاثوں کی مجموعی مالیت 542 ارب ڈالر اور رئیل ٹائم مارکیٹ ویلیو 188 ارب ڈالر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here