سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذیلی ادارے کو بولی کے بغیر ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت

125

 

حکومت نے گیس فراہمی کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک بار پھر مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے ذیلی ادارے کو بولی کے بغیرگیس درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذیلی ادارے پاکستان ایس ایس جی سی-ایل پی جی پرائیوٹ لمیٹڈ (ایس ایل ایل) کو نومبر 2023 سے مارچ 2024 تک سپاٹ کارگوز کے ذریعے ماہانہ 20 ہزار ٹن ایل پی جی خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس استثنیٰ میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے چار قواعد شامل ہیں جو بولی کے عمل اور کنٹریکٹ ایوارڈ کو منظم کرتے ہیں۔

ایس ایل ایل کی استثنیٰ کی درخواست 3 اکتوبر 2023 کو پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے پی پی آر اے کو جمع کرائی گئی۔ اس سے پہلے 9 جون 2023 کو حکومت نے پی پی آر اے بورڈ کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے سپاٹ ایل پی جی کارگو کی خریداری کے لیے اپریل 2023 سے ستمبر 2023 تک مخصوص قوانین سے ایس ایل ایل کو استثنیٰ دے دیا۔ 

پی پی آر اے بورڈ نے یہ بھی تجویز کیا کہ وزارت توانائی کو پوری مقدار کے لیے ‘کم ترین قیمت’ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مختلف سپلائرز سے مطلوبہ مقدار کو اسی کم ترین قیمت پر تقسیم کرنا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حکومت نے ایل پی جی کی درآمد کے لیے پی پی آر اے کے قوانین کو معطل کیا ہو۔ گزشتہ سال پچھلی حکومت نے ایس ایل ایل کو بھی ایسی ہی چھوٹ دی تھی، جس پر ایل پی جی انڈسٹری اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کمپنی پر قیمتیں بڑھانے اور ریگولیٹر کے نوٹیفائیڈ نرخوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

ایل پی جی کو گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے ایک متبادل ایندھن سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس دستیاب نہیں ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی کابینہ نے تجویز کی منظوری دے دی۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here