فیکٹ چیک، کیا پے پال واقعی پاکستان آرہا ہے

313

 

پاکستان کے نگراں وزیر آئی ٹی عمر سیف کے دعوے کے برعکس پے پال پاکستان میں براہ راست یا بالواسطہ کام شروع نہیں کرے گا۔ جمعہ کو وزیر نے کہا کہ پے پال پاکستان میں بالواسطہ طور پر پیونیئر کی سروس کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کام کرے گا۔

تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شراکت داری کا کسی بھی طرح سے یہ مطلب نہیں کہ پے پال پاکستان میں کسی بھی طرح سے کام شروع کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق پیونیئر پے پال کے ساتھ شراکت داری میں داخل ہو رہا ہے تاکہ پے پال کو پیونیئر صارفین کے لیے ادائیگی کے طریقے کے طور پر اجازت دی جا سکے۔

اس پیشرفت سے باخبر ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پے پال پاکستان میں اپنے آپریشنز شروع نہیں کر رہا بلکہ یہ نئی سہولت پاکستانیوں کو ایک عالمی شراکت داری کے نتیجے میں حاصل ہو رہی ہے جس کے اثرات ’صرف پاکستانی صارفین تک محدود نہیں۔‘

دراصل پے پال کا ایک دوسری امریکی کمپنی پیونیئر سے سٹریٹیجک معاہدہ ہوا ہے جس کا اعلان خود پیونیئر نے اپنی ویب سائٹ پر کیا۔

پیونیئر کا کہنا ہے کہ جلد صارفین اس کی سروس استعمال کرتے ہوئے پے پال کی ادائیگیاں وصول کر سکیں گے۔

پے پال نے پاکستان میں آپریشنز شروع کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔ البتہ اکثر پاکستانی فری لانسرز کے ذریعے استعمال سروس پیونیئر کا کہنا ہے کہ جلد اس کے صارفین اپنے امریکی کلائنٹس سے بذریعہ پے پال رقم منگوا سکیں گے۔

اس کا کہنا ہے کہ صارفین اپنا بل امریکی کلائنٹس کو بھیجیں گے اور وہ اپنے پاس دستیاب آپشنز میں سے پے پال کا انتخاب کر کے پاکستان میں رقم بھیج سکیں گے۔

پیونیئر نے کہا ہے کہ یہ اپنے صارفین کو پے پال سے رقم منگونے پر اچھے ریٹ آفر کرے گا۔

اس پیشرفت سے باخبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیونیئر اور پے پال کے درمیان عالمی سطح پر شراکت داری ہوئی ہے اور یہ فیچر محض پاکستانی صارفین کے لیے نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ پاکستانی صارفین اس فیچر کو استعمال کر کے پے پال اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مقیم فری لانسرز کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ انھیں امریکہ سمیت دنیا بھر سے رقوم وصول کرنے میں مسائل پیش آتے ہیں اور اس کا حل یہ ہوگا کہ پے پال یا اس جیسی دیگر سروسز کو پاکستان میں متعارف کرایا جائے۔

اس وقت آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کی برآمدات سالانہ چند ارب ڈالر ہیں مگر گذشتہ سال اکتوبر کے دوران خود ڈاکٹر عمر سیف نے اعتراف کیا تھا کہ اگر ملک میں 10 لاکھ فری لانسرز کو 30 ڈالر روزانہ کمانے کی تربیت اور وسائل دستیاب ہوجائیں تو آئی ٹی کی درآمدات 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پے پال تاحال اس لیے پاکستان میں اپنی سروسز متعارف نہیں کرا سکا کیونکہ ملک میں الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشنز کے لیے ریگولیٹری فریمورک کے مسائل ہیں۔ آسان لفظوں میں یہ کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے اس قدر سازگار ماحول نہیں جتنا پے پال چاہتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں آن لائن ادائیگیوں کی بعض سروسز جیسے پیونیئر دستیاب ہیں تاہم ریگولیٹری رکاوٹیں موجود ہیں جبکہ منی لانڈرنگ، جعلسازی اور بیرون ملک اثاثوں کی منتقلی جیسے خدشات پائے جاتے ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here